٥١

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں آسکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا مولا ہے اور اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٥٢
(ان سے) کہیے کہ تم ہمارے بارے میں کس شے کا انتظار کرسکتے ہو سوائے دو نہایت عمدہ چیزوں میں سے کسی ایک کے ! اور (اے منافقو !) ہم منتظر ہیں تمہارے بارے میں کہ اللہ تمہیں پہنچائے کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٥٣
کہہ دیجئے کہ چاہے خوشی سے خرچ کرو یا مجبوری سے تم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ تم نافرمان لوگ ہو

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٥٤
اور نہیں مانع ہوئی کوئی چیز کہ ان سے ان کے نفقات (اموال کا خرچ کرنا) کو قبول کیا جاتا مگر یہ کہ انہوں نے کفر کیا ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اور وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر بہت ہی کسل مندی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر کراہت کے ساتھ

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٥٥
تو (اے نبی ﷺ !) آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں نکلیں اسی کفر کی حالت میں

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٥٦
اور وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہیں لیکن (اے مسلمانو ! حقیقت میں) یہ لوگ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ اصل میں یہ ڈرے ہوئے لوگ ہیں

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٥٧
اگر یہ پالیں کہیں کوئی پناہ گاہ یا کوئی غار یا کوئی سر چھپانے کی جگہ تو یہ اس کی طرف بھاگ جائیں اپنی رسیاں تڑاتے ہوئے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٥٨
اور (اے نبی ﷺ ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر الزام لگاتے ہیں صدقات کے بارے میں تو اگر اس میں سے انہیں (خاطر خواہ) دے دیا جائے تو یہ راضی رہتے ہیں اور اگر اس میں سے انہیں (اس قدر) نہ دیا جائے تو فوراً ناراض ہوجاتے ہیں

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٥٩
اور اگر وہ راضی رہتے اس پر جو کچھ دیا انہیں اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے اور وہ کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے عنقریب اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہمیں (پھر بھی) اپنے فضل سے نوازتے رہیں گے یقیناً ہم اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٦٠
صدقات تو بس مفلسوں اور محتاجوں اور عاملین صدقات کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کی تالیف قلوب مطلوب ہو اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جن پر تاوان پڑا ہو (ان کے لیے) اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں (کی امداد) میں۔ یہ اللہ کی طرف سے معین ہوگیا ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

Notes placeholders