١١

تو ہم نے تھپکی دے دی ان کے کانوں پر غار میں کئی سال کے لیے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٢
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ ہم دیکھیں کہ دو گروہوں میں سے کس کو بہتر معلوم ہے کہ کتنا عرصہ وہ وہاں رہے تھے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٣
ہم سنا رہے ہیں آپ کو ان کا قصہ حق کے ساتھ وہ چند نوجوان تھے جو ایمان لائے اپنے رب پر اور ہم نے خوب بڑھایا تھا انہیں ہدایت میں

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٤
اور ہم نے مضبوط کردیا ان کے دلوں کو جب وہ (بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم ہرگز نہیں پکاریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود (اگر ایسا ہوا) تب تو ہم بہت غلط بات کہیں گے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥
ہماری اس قوم نے بنالیے ہیں اس کے سوا دوسرے معبود تو کیوں نہیں پیش کرتے وہ ان کے بارے میں کوئی واضح دلیل تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٦
اور اب جبکہ تم نے خود کو ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں ان سے علیحدہ کرلیا ہے تو اب کسی غار میں پناہ لے لو تمہارا رب پھیلا دے گا تمہارے لیے اپنی رحمت اور تمہارے معاملے میں تمہارے لیے سہولت کا سامان پیدا فرمادے گا

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٧
اور تم سورج کو دیکھتے کہ جب وہ طلوع ہوتا تو ان کی غار سے داہنی طرف ہٹ جاتا اور جب وہ غروب ہوتا تو بائیں جانب ان سے کنی کترا جاتا اور وہ اس کی کھلی جگہ میں (لیٹے ہوئے) تھے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے تم نہیں پاؤ گے کوئی مدد گار راہ پر لانے والا

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٨
اور (اگر تم انہیں دیکھتے تو) تم سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے تھے اور ہم ان کی کروٹیں بھی بدلتے رہے دائیں اور بائیں اور ان کا کتا اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے (بیٹھا) تھا دہلیز پر اگر تم ان پر جھانکتے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور تم پر ان کی طرف سے ہیبت طاری ہوجاتی

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٩
اور اسی طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم کتنا عرصہ یہاں رہے ہو گے کچھ بولے کہ ہم رہے ہیں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ کچھ (دوسرے) بولے کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے تم کتنا عرصہ رہے ہو اب تم بھیجو اپنے میں سے ایک (ساتھی) کو اپنے اس چاندی کے سکے کے ساتھ شہر کی طرف تو وہ دیکھے کہ شہر کے کس حصے سے زیادہ پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہ وہاں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لے آئے اور وہ نرمی کا معاملہ کرے اور وہ آگاہ نہ کر دے تمہارے بارے میں کسی کو

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٠
کیونکہ اگر انہوں نے تم پر قابو پا لیا تو وہ تمہیں سنگسار کردیں گے یا تمہیں واپس لے جائیں گے اپنے دین میں اور تب تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکو گے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

Notes placeholders