٢١

اور کچھ (فتوحات) اور بھی ہیں جن پر ابھی تمہیں قدرت حاصل نہیں ہوئی اللہ ان کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے } اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٢
اور اگر یہ کافر (قریش ِمکہ) ّتم سے جنگ کرتے تو لازماً پیٹھ پھیر جاتے اور پھر نہ پاتے وہ اپنے لیے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٣
یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ } اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٤
اور وہی ہے جس نے روک دیے ان کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے اور تمہارے ہاتھ ان کی طرف بڑھنے سے مکہ کی وادی میں اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر فتح دے دی تھی۔ } اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٥
وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں روکے رکھا مسجد ِحرام تک جانے سے اور قربانی کے جانور بھی روکے گئے اپنی جگہ پہنچنے سے اور اگر نہ ہوتے (مکہ میں موجود) ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے اندیشہ تھا کہ تم لوگ انہیں بھی کچل دیتے تو ان کے بارے میں تم پر الزام آتا بیخبر ی میں (تو جنگ نہ روکی جاتی) (جنگ اس لیے روکی گئی) تاکہ اللہ داخل کرے اپنی رحمت میں جس کو چاہے۔ } اگر وہ (اہل ِایمان) علیحدہ ہوچکے ہوتے تو ان (اہل ّمکہ) میں سے جو کافر تھے ان کو ہم ایک دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیتے۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٦
جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت بٹھالی جاہلیت کی حمیت تو اللہ نے سکینت نازل کردی اپنے رسول ﷺ پر اور اہل ایمان پر اور اس نے لازم کردیا ان پر تقویٰ کی بات کو اور وہ اس کے زیادہ حق دار بھی ہیں اور اس کے اہل بھی ہیں۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٧
اللہ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ (اے مسلمانو !) تم لازماً داخل ہو گے مسجد الحرام میں ان شاء اللہ پورے امن کے ساتھ اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بالوں کو ترشواتے ہوئے (اُس وقت) تمہیں کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔ } تو اللہ وہ کچھ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے تو اس کے علاوہ اس نے (تمہارے لیے) ایک قریب کی فتح بھی رکھی ہے۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٨
وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ وہ غالب کر دے اسے ُ کل کے کل نظام زندگی پر اور کافی ہے اللہ مددگار کے طور پر۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

٢٩
محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں تم دیکھو گے انہیں رکوع کرتے ہوئے سجدہ کرتے ہوئے وہ (ہر آن) اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی رہتے ہیں ان کی پہچان ان کے چہروں پر (ظاہر) ہے سجدوں کے اثرات کی وجہ سے یہ ہے ان کی مثال تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے نکالی اپنی کو نپل پھر اس کو تقویت دی پھر وہ سخت ہوئی پھر وہ اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی یہ کا شتکار کو بڑی بھلی لگتی ہے تاکہ ان سے کافروں کے دل جلائے } اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے مغفرت اور اجر عظیم کا

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

Notes placeholders