١٥١

کہیے آؤ میں تمہیں سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا چیزیں حرام کی ہیں یہ کہ کسی شے کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو تنگ دستی کے خوف سے ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے) اور بےحیائی کے کاموں کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں یا خفیہ اور مت قتل کرو اس جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ یہ باتیں ہیں جن کی اللہ تمہیں وصیت کر رہا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥٢
اور یتیم کے مال کے قریب مت پھٹکو مگر بہترین طریقے سے (اس کے مال کی حفاظت کرو) یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور پورا کرو ناپ اور تول کو عدل کے ساتھ۔ ہم نہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے کسی بھی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور جب بھی بات کرو تو عدل (کی بات) کرو خواہ قرابت دار ہی (کا معاملہ) ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو یہ ہیں (وہ چیزیں) جن کا اللہ تمہیں حکم کر رہا ہے تاکہ تم نصیحت اخذ کرو

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥٣
اور یہ کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اس کی پیروی کرو اور (اس صراط مستقیم کو چھوڑ کر) دوسرے راستوں پر نہ پڑجاؤ کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا کر منتشر کردیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ تمہیں وصیّت کر رہا ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥٤
پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اپنی نعمت پوری کرنے کے لیے احسان کی روش اختیار کرنے والے پر اور (اس میں تھی) ہر شے کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت تا کہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری پر پورا یقین رکھیں

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥٥
اور (اب) یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے بڑی بابرکت تو تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥٦
مبادا تم یہ کہو کہ کتاب تو بس اتاری گئی تھی ہم سے پہلے کے دو گروہوں پر اور ہم تو اس کے پڑھنے پڑھانے سے غافل ہی رہے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥٧
) یا تم یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان سے کہیں بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوتے تو (اے بنی اسماعیل) تمہارے پاس آگئی ہے بیّنہ تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ،) تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے پہلو تہی کرے ہم عنقریب سزا دیں گے ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے پہلو تہی کرتے ہیں بہت ہی برے عذاب کی بسبب ان کے اس پہلو تہی کرنے کے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥٨
یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے اس کے کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ ﷺ کا رب خود آجائے یا پھر آپ ﷺ کے رب کی کوئی نشانی آجائے ! جس دن آپ ﷺ کے رب کی بعض (مخصوص) نشانیاں ظاہر ہوگئیں تو پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہیں لا چکا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کچھ خیر نہیں کما لیا تھا (تو اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٥٩
(اے نبی ﷺ !) جن لوگوں نے اپنے دین کے ٹکڑے کردیے اور وہ گروہوں میں تقسیم ہوگئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر وہ انہیں جتلا دے گا جو کچھ کہ وہ کرتے رہے تھے

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

١٦٠
جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا اور جو کوئی بدی کما کر لائے گا تو اسے سزا نہیں ملے گی مگر اسی کے برابر اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

Notes placeholders