مکہ
سورہ Ash-Sharh

آیات

8

وحی کی جگہ

مکہ

نام :

 

 پہلے ہی فقرے کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :

 

اس کا مضمون سورۂ ضحٰی  سے اس قدر ملتا جلتا ہے کہ یہ دونوں سُورتیں قریب قریب ایک ہی زمانے اور ایک جیسے حالات میں نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ  فرماتے ہیں کہ یہ مکّۂ معظمہ میں والضحٰی کے بعد نازل ہوئی ہے۔

موضوع اور مضمون:

 اس کا مقصد و مدعا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلّی دینا ہے۔ نبوّت سے پہلے حضور ؐ کو کبھی اُن حالات سے سابقہ پیش نہ آیا تھا جن کا سامنا نبوّت کے بعد دعوتِ اسلامی کا آغاز کرتے ہی یکایک آپؐ کو کرنا پڑا۔ یہ خود آپؐ کی زندگی میں ایک انقلابِ عظیم تھا جس کا کوئی اندازہ آپؐ کو قبلِ نبوت کی زندگی میں نہ تھا۔ اسلام کی تبلیغ آپؐ  نے کیا شروع کی کہ دیکھتےدیکھتے وہی معاشرہ آپ ؐ کا دشمن ہو گیا جس میں آپ ؐ پہلے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ وہی رشتہ دار ، دوست ، اہلِ قبیلہ اور اہلِ محلہ آپؐ  کو گالیاں دینے لگے جو پہلے آپ ؐ کو ہاتھو ہاتھ لیتے تھے۔ مکّہ میں کوئی آپؐ کی بات سننے کا روادار نہ تھا ۔ راہ چلتے آپ پر آوازے کسے جانے لگے۔ قدم قدم پر آپ ؐ  کے سامنے مشکلات ہی مشکلات تھیں۔ اگرچہ رفتہ رفتہ آپؐ کو اِن حالات ، بلکہ اِن سے بھی بدرجہا زیادہ سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑ گئی، لیکن ابتدائی زمانہ آپ ؐ کے لیے نہایت دل شکن تھا۔ اِسی بنا پر آپ ؐ کو تسلی دینے کے لیے پہلے سُورۂ ضحٰی نازل کی گئی اور پھر اِس سورت کا نزول ہوا۔

اِس میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ ؐ کو  بتایا ہے کہ ہم نے آپ ؐ کو تین بہت بڑی نعمتیں عطا کی ہیں جن کی موجودگی میں کوئی وجہ نہیں کہ آپ ؐ دل شکستہ ہوں۔ ایک شرح صدر کی نعمت۔ دوسری نعمت کہ آپ کے اوپر سے ہم نے وہ بھاری بوجھ اتار دیا جو نبوّت سے پہلے آپ ؐ کی کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ تیسری رفعِ ذِکر کی نعمت جو آپ ؐ سے بڑھ کر تو درکنار آپ ؐ کے برابر بھی کبھی کسی بندے کو نہیں دی گئی۔ آگے چل کر ہم نے اپنے حواشی میں وضاحت کر دی ہے کہ اِن تینوں نعمتوں سے مراد کیا ہے اور یہ کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔

اِس کے بعد ربِّ کائنات اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطمینان  دلاتا ہے کہ مشکلات کا یہ دور ، جس سے آپ ؐ کو سابقہ پیش آ رہا ہے، کوئی بہت لمبا دور نہیں ہے بلکہ اِس تنگی کے ساتھ ہی ساتھ فراخی کا دور بھی لگا چلا آرہا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ ضحٰی میں اِس طرح فرمائی گئی تھی کہ آپ ؐ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے  دور سے بہتر ہو گا اور عنقریب آپ ؐ کا ربّ  آپ ؐ کو وہ کچھ دے گا جس سے آپ ؐ کا دل خوش ہو جائے گا۔

آخر میں حضور ؐ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ابتدائی دور کی اِن سختیوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت آپ کے اندر ایک ہی چیزسے پیدا ہوگی، اور وہ یہ ہے کہ جب اپنے مشاغل سے آپ فارغ ہوں تو عبادت کی مشقت و ریاضت میں لگ جائیں اور ہر چیز سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے ربّ سے لَو لگائیں۔ یہ وہی ہدایت ہے جو زیادہ تفصیل کے ساتھ حضور ؐ کو سورۂ مزّمِّل آیات ۱ تا ۹ میں دی گئی ہے۔