مدینہ
سورہ An-Nur

آیات

64

وحی کی جگہ

مدینہ

نام:

پانچویں رکوع کی پہلی آیت

اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْ ضِ

سے ماخوذ ہے۔

زمانہ نزول:

یہ امر متفق علیہ ہے کہ یہ سورت غزوہ بنی الْمُصْطَلِق  کے بعد نازل ہوئی ہے۔ خود قرآن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا نزول واقعہ اِفْک کے سلسلے میں ہوا ہے (جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ دوسرے اور تیسرے رکوع میں آیا ہے ) اور وہ تمام معتبر روایات کی رو سے غزوہ بنی المطلق کے سفر میں پیش آیا تھا۔ لیکن اختلاف اس امر میں ہے کہ آیا یہ غزوہ 5 ہجری میں غزوہ اَحزاب سے پہلے ہوا تھا یا 6 میں غزوہ احزاب کے بعد۔ اصل واقعہ کیا ہے ، اس کی تحقیق اس لیے ضروری ہے کہ پردے کے احکام قرآن مجید کی دو ہی سورتوں میں آئے ہیں ، ایک یہ سورت، دوسری سورہ احزاب جس کا نزول بالاتفاق غزوہ احزاب کے موقع پر ہوا ہے۔ اب اگر غزوہ احزاب پہلے ہو تو اس کے معنی یہ ہی کہ پردے کے احکام کی ابتدا ان ہدایات سے ہوئی جو سورہ احزاب میں وارد ہوئی ہیں ، اور تکمیل ان احکام سے ہوئی جو اس سورت میں آئے ہیں۔ اور اگر غزوہ بنی المصطلق پہلے ہو تو احکام کی ترتیب الٹ جاتی ہے اور آغاز سورہ نور سے مان کر تکمیل سورہ احزاب والے احکام پر ماننی پڑتی ہے۔ اس طرح اس حکمت تشریع کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے جو احکام حجاب میں پائی جاتی ہے۔ اسی غرض کے لیے ہم آگے بڑھنے سے پہلے زمانہ نزول کی تحقیق کر لینا ضروری سمجھتے ہیں۔

ابن سعد کا بیان ہے کہ غزوہ بنی المصطلق شعبان 5 ہجری میں پیش آیا اور پھر ذی القعدہ 5 ھ میں غزوہ احزاب (یا غزوہ خندق ) واقع ہوا۔ اس کی تائید میں سب سے بڑی شہادت یہ ہے کہ واقعہ افک کے سلسلے میں حضرت عائشہؓ سے جو روایات مروی ہیں ان میں سے بعض میں حضرت سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ کے جھگڑے کا ذکر آتا ہے ، اور تمام معتبر روایات کی رو سے حضرت سعد بن معاذ کا انتقال غزوہ بن قریظہ میں ہوا تھا جس کا زمانہ واقع غزوہ احزاب کے متصلاً بعد ہے ، لہٰذا 6 ھ میں ان کے موجود ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

دوسری طرف محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ غزوہ احزاب شوال 5 ھ کا واقعہ ہے اور غزوہ بنی المصطلق شعبان 6 ھ کا۔ اس کی تائید وہ کثیر التعداد معتبر روایات کرتی ہیں جواس سلسلہ میں حضرت عائشہؓ اور دوسرے لوگوں سے مروی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ افک سے پہلے احکام حجاب نازل ہو چکے تھے ، اور وہ سورہ احزاب میں پائے جاتے ہیں۔ ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت زینبؓ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نکاح ہو چکا تھا، اور وہ غزوہ احزاب کے بعد ذی القعدہ 5 ھ کا واقعہ ہے اور سورہ احزاب میں اس کا بھی ذکر آتا ہے۔ علاوہ بریں ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینب کی بہن حمْنَہ بنت جحش نے حضرت عائشہؓ پر تہمت لگانے میں محض اس وجہ سے حصہ لیا تھا کہ حضرت عائشہؓ ان کی بہن کی سوکن تھیں ، اور ظاہر ہے کہ بہن کی سوکن کے خلاف اس طرح کے جذبات پیدا ہونے کے لیے سوکناپے کا رشتہ شروع ہونے کے بعد کچھ نہ کچھ مدت درکار ہوتی ہے۔ یہ سب شہادتیں ابن اسحاق کی روایت کو مضبوط کر دیتی ہیں۔

اس روایت کو قبول کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہوتی ہے کہ واقعہ افک کے زمانے میں حضرت سعد بن معاذ کی موجودگی کا ذکر آیا ہے۔ مگر اس مشکل کو جو چیز رفع کر دیتی ہے وہ یہ ہے کہ اس واقعہ کے متعلق حضرت عائشہؓ سے جو روایات مروی ہیں ان میں سے بعض میں حضرت سعد بن معاذ کا ذکر ہے اور بعض میں ان کے بجائے حضرت اُسَید بن حُضَیر کا۔ اور یہ دوسری روایت ان دوسرے واقعات کے ساتھ پوری طرح مطابق ہو جاتی ہے جو اس سلسلے میں خود حضرت عائشہؓ ہی سے مروی ہیں۔ ورنہ محض سعد بن معاذ کے زمانہ حیات سے مطابق کرنے کی خاطر اگر غزوہ بنی المصطلق اور قصہ افک کو غزوہ احزاب و قریظہ سے پہلے کے واقعات مان لیا جائے تو اس پیچیدگی کا کوئی حل نہیں ملتا کہ پھر آیت حجاب کا نزول اور نکاح زینبؓ کا واقعہ اس سے بھی پہلے پیش آنا چاہیے ، حالانکہ قرآن اور کثیر التعداد روایات صحیحہ ، دونوں اس پر شاہد ہیں کہ نکاح زینبؓ اور حکم حجاب احزاب و قریْظَہ کے بعد کے واقعات ہیں۔ اسی بنا پر ابن حزم اور ابن قیم اور بعض دوسرے محققین نے محمد بن اسحٰق کی روایت ہی کو صحیح قرار دیا ہے ، اور ہم بھی اس کی صحیح سمجھتے ہیں۔

تاریخی پس منظر :

اب یہ تحقیق ہو جانے کے بعد کہ سورہ نور 6 ہجری کے نصف آخر میں سورہ احزاب کے کئی مہینے بعد نازل ہوئی ہے ، ہمیں ان حالات پر ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے جن میں اس کا نزول ہوا۔  جنگ بدر کی فتح سے عرب میں تحریک اسلامی کا جو عروج شروع ہوا تھا وہ غزوہ خندق تک پہنچتے پہنچتے اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ مشرکین، یہود، منافقین اور متربصین ، سب ہی یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ اس نو خیز طاقت کو محض ہتھیاروں اور فوجوں کے بل پر شکست نہیں دی جا سکتی۔ جنگ خندق میں ہ لوگ متحد ہو کر 10 ہزار فوج کے ساتھ مدینے پر چڑھ آئے تھے ، مگر ایک مہینے تک سر مارنے کے بعد آخر کار ناکام ہو کر چلے گئے اور ان کے جاتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی الاعلان فرما دیا، لن تغزوکم قریش بعد عامکم ھٰزا ، ولکنکم تغزو نَھم (ابن ہشام، جلد 3 ، 266)، ’’ اس سال بعد اب قریش تم پر چڑھائی نہیں کریں گے بلکہ تم ان پر چڑھائی کرو گے ‘‘۔ یہ گویا اس امر کا اعلان تھا کہ مخالف اسلام طاقتوں کی قوت اقدام ختم ہو چکی ہے ، اب اسلام بچاؤ کی نہیں بلکہ اقدام کی لڑائی لٹے گا اور کفر کو اقدام کے بجائے بچاؤ کی لڑائی لڑنی پڑے گی۔ یہ حالات کا بالکل صحیح جائزہ تھا جسے دوسرا فریق بھی اچھی طرح محسوس کر رہا تھا۔ اسلام کے اس روز افزوں عروج  کی اصل وجہ مسلمانوں کی تعداد نہ تھی۔ بدر سے خندق تک ہر لڑائی میں کفار ان سے کئی گئی زیادہ قوت لے کر آئے تھے ، اور مردم شماری کے لحاظ ے بھی مسلمان اس وقت تک عرب میں بمشکل 1/10فی صدی تھے۔ اس عروج کی وجہ مسلمانوں کے اسلحہ کی بر تری بھی نہ تھی۔ ہر طرح کے سازو سامان میں کفار ہی کا پلہ بھاری تھا۔ معاشی طاقت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کا ان سے کوئی مقابلہ نہ تھا۔ ان کے پاس تمام عرب کے معاشی وسائل تھے ، اور مسلمان بھوکوں مر رہے تھے۔ ان کی پشت پر تمام عرب کے مشرک اور اہل کتاب قبائل تھے ، اور مسلمان ایک نئے دین کی دعوت دے کر قدیم نظام کے سارے حامیوں کی ہمدردیاں کھو چکے تھے۔ ان حالات میں جو چیز مسلمانوں کو برابر آگے بڑھائے لیے جا رہی تھی، وہ در اصل مسلمانوں کی اخلاقی بر تری تھی جسے تمام دشمنان اسلام خود بھی محسوس کر رہے تھے۔ ایک طرف وہ دیکھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام کےسم داغ سیرتیں ہیں جن کی طہارت و پاکیزگی اور مضبوطی دلوں کو مسخر کرتی چلی جا رہی ہے۔ اور دوسری طرف انہیں صاف نظر آ رہا تھا کہ انفرادی و اجتماعی اخلاق کی طہارت نے مسلمانوں کے اندر کمال درجے کا اتارد اور نظم و ضبط بھی پیدا کر دیا ہے جس کے سامنے مشرکین اور یہود کا ڈھیلا نظام جماعت امن اور جنگ دونوں حالتوں میں شکست کھاتا چلا جاتا ہے۔ کمینہ خصلت لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے کہ جب وہ دوسرے کی خوبیاں اور اپنی کمزوریاں صریح طور پر دیکھ لیتے ہیں ، اور یہ بھی جان لیتے ہیں کہ اس کی خوبیاں اسے بڑھا رہی ہیں اور ان کی اپنی کمزوریاں انہیں گرا رہی ہیں ، تو انہیں یہ فکر لاحق نہیں ہوتی کہ اپنی کمزوریاں دور کریں اور اس کی خوبیاں اخذ کریں ، بلکہ وہ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو سکے اس کے اندر بھی اپنے ہی جیسی برائیاں پیدا کر دیں ، بلکہ وہ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو سکے اس کے اندر بھی اپنے ہی جیسی برائیاں پیدا کر دیں ، اور یہ نہ ہو سکے تو کم از کم اس کے اوپر خوب گندگی اچھالیں تاکہ دنیا کو اس کی خوبیاں بے داغ نظر نہ آئیں۔ یہی ذہنیت تھی جس نے اس مرحلے پر دشمانان اسلام کی سرگرمیوں کا رخ جنگی کار روائیوں سے ہٹا کر رذیلانہ  حملوں اور داخلہ فتنہ انگیزیوں کی طرف پھیر دیا۔ اور چونکہ یہ خدمت باہر کے دشمنوں کی بہ نسبت خود مسلمانوں کے اندر  کے منافقین زیادہ اچھی طرح انجام دے سکتے تھے ، اس لیے بلارادہ یا بلا ارادہ طریق کار یہ قرار پایا کہ مدینہ کے منافقین اندر سے فتنے اٹھائیں اور یہود و مشرکین باہر سے ان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اس نئی تدبیر کا پہلا ظہور ذی القعدہ 5 ھ میں ہوا جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عرب سے تَبْنِیَت (دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنانا اور خاندان میں اسے بالکل صُلبی بیٹے کی حیثیت دے دینا۔ ) کی جاہلانہ رسم کا خاتمہ کرنے کے لیے خود اپنے متبنیٰ(زیدؓ بن حارثہ) کی مطَلَّقہ بیوی (زینبؓ بنت حجش) سے نکاح کیا۔ اس موقع پر مدینے کے منافقین پروپیگنڈا کا ایک طوفان عظیم لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور باہر سے یہود و مشرکین نے بھی ان کی آواز میں آواز ملا کر افترا پردازیاں شروع کر دیں۔ انہوں نے عجیب عجیب قصے گھڑ گھڑ کر پھیلا دیے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کس طرح اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے ، اور کس طرح بیٹے کو ان کی عشق کا علم ہوا اور وہ طالق دے کر بیوی سے دست بردار ہو گیا، اور پھر کس طرح انہوں نے خود اپنی بہو سے بیاہ کر لیا۔ یہ قصے اس کثرت سے پھیلائے گئے کہ مسلمان تک ان کے اثرات سے نہ بچ سکے۔ چنانچہ محدثین اور مفسرین کے ایک گروہ نے حضرت زینبؓ اور زید کے متعلق جو روایتیں نقل کی ہیں ان میں آج تک ان من گھڑت قصوں کے اجزا پائے جاتے ہیں اور مستشرقین مغرب ان کو خوب نمک مرچ لگا کر اپنی کتابوں میں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ حضرت زینبؓ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حقیقی پھوپھی (اُمَیمہ بنت عبدالمطلب) کی صاحبزادی تھیں بچپن سے جوانی تک ان کی ساری عمر حضورؐ کی آنکھوں کے سامنے گزری تھی، ان کو اتفاقاً ایک روز دیکھ لینے اور معاذ اللہ ان پر عاشق ہو جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر اس واقعہ سے ایک ہی سال پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خود ان کو مجبور کر کے حضرت زید سے ان کی شادی ی تھی۔ ان کے بھائی عبداللہ بن حجش اس شادی سے ناراض تھے۔ خود حضرت زینبؓ اس پر راضی نہ تھیں ، کیونکہ ایک آزاد کردہ غلام کی بیوی بننا قریش کے شریف ترین گھرانے کی بیٹی طبعاً قبول نہ کر سکتی تھی۔ مگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف اس لیے کہ مسلمانوں میں معاشرتی مساوات قائم کرنے کی ابتدا خود اپنے خاندان سے کریں ، نہیں حکماً اس پر راضی کیا تھا۔ یہ ساری باتیں دوست اور دشمن سب کو معلوم تھیں ، اور یہ بھی کسی سے چھپا ہوا نہ تھا کہ حضرت زینب کا احساس فخر نسبی ہی وہ اصل وجہ تھی جس کی بنا پر ان کا اور زید بن حارثہ کا نباہ نہ ہو سکا اور آخر کار طلاق تک نوبت پہنچی۔ مگر اس کے باوجود بے شرم افترا پروازوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر بد ترین اخلاقی الزامات لگائے اور ان کو اس کثرت سے رواج دیا کہ آج تک انکا یہ پروپیگنڈا اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔ اس کے بعد دوسرا حملہ غزوہ بنی الصطَلِق کے موقع پر کیا گیا ، اور یہ پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا۔ بنی المصطلق قبیلہ بنی خزاعہ کی ایک شاخ تھی جو ساحل بحر احمر پر جدے اور رابع کے درمیان قدید کے علاقے میں رہتی تھی۔ اس کے چشمے کا نام مریسیع تھا جس کے آس پاس اس قبیلے کے لوگ آباد تھے۔ اس مناسبت سے احادیثمیں اس مہم کا نام غزوہ رُرَیسیع بھی آیا ہے۔ نقشے سے اس کی صحیح جائے وقوع معلوم ہو سکتی ہے۔ شعبان 6ھ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع ملی  کہ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور دوسرے قبائل کو بھی جمع کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع پاتے ہی آپ ایک لشکر لے کر ان کی طرف روانہ ہو گئے تاکہ فتنے کے سر اٹھانے سے پہلے ہی اسے کچل دیا جائے۔ اس مہم میں عبد اللہ بن ابی بھی منافقوں کی ایک بڑی تعداد لے کر آپ کے ساتھ ہو گیا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے کسی جنگ میں منافقین اس کثرت سے شامل نہ ہوئے تھے۔ مریسیع کے مقام پر آنحضرت نے اچانک دشمن کو جالیا۔ اور تھوڑی سی رد و خورد کے بعد پورے قبیلے کو مال اسباب سمیت گرفتار کر لیا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر بھی مریسیع ہی پر لشکر اسلام پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ ایک روز حضرت عمرؓ کے ایک ملازم (جَہْجَاہ بن مسعود غفاری) اور قبیلہ خزرج کے ایک حلیف (سِنَان بن دَبر جُہنِی) کے درمیان پانی پر جھگڑا ہو گیا۔ ایک  نے انصار کو پکارا۔ دوسرے نے مہاجرین کو آواز دی۔ لوگ دونوں طرف سے جمع ہو گئے اور معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔ لیکن عبداللہ بن اُبی نے جو انصار قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا، بات کا بتنگڑ بنا دیا۔ اس نے انصار کو یہ کہ ہ کہ ہ کر بھڑکانا شروع کیا کہ ’’ یہ مہاجرین ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں اور ہمارے حریف بن بیٹھے ہیں۔ ہماری اور ان قریشی کنگلوں  کی مثال ایسی ہے کہ کتے کو پال تاکہ تجھی کو بھنبھوڑ کھائے۔ یہ سب کچھ تمہارا اپنا کیا دھرا ہے۔ تم لوگوں نے خود ہی انہیں لا کر اپنے ہاں بسایا ہے اور ان کو اپنے مال و جائداد میں حصہ دار بنایا ہے۔ آج اگر تم ان سے ہاتھ کھینچ لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں ‘‘۔ پھر اس نے قسم کھا کر کہا کہ ’’ مدینے واپس پہنچنے کے بعد جو ہم میں سے عزت والا ہے وہ ذلیل لوگوں کو نکال باہر کر دے (سورہ منافقون میں اللہ تعالیٰ نے خود اس کا یہ قول نقل فرمایا ہے ) گا ‘‘۔ اس کی ان باتوں کی اطلاع جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ اس شخص کو قتل کرا دینا چاہیے۔ مگر حضور نے فرمایا: فکیف یا عمر اذا تحدث الناس ان محمد ایقتل اصحابہ (عمر، دنیا کیا کہے گی کہ محمدؐ خود اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہا ہے )۔ پھر آپ نے فوراً ہی اس مقام سے کوچ کر حکم دے دیا اور دوسرے دن دوپہر تک کسی جگہ پڑاؤ نہ کیا ، تاکہ لوگ خوب تھک جائیں اور کسی کو بیٹھ کر چہ میگوئیاں کرنے اور سننے کی مہلت نہ ملے۔ راستے میں سید بن حضَیر نے عرض کیا ’’ یا نبی اللہ، آج آپ نے اپنے معمول کے خلاف نا وقت کوچ کا حکم دے دیا؟‘‘ آپ نے جواب دیا۔ ’’تم نے سنا نہیں کہ تمہارے صاحب نے کیا باتیں کی ہیں ’’۔ انہوں نے پوچھا ’’ کون صاحب؟‘‘ آپ نے فرمایا’’ عبد اللہ بن اُبی ‘‘۔ انہوں نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ، اس شخص  سے رعایت فرمائیے ، آپ جب مدینے تشریف لائے ہیں تو ہم لوگ اس اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے اور اس کے لیے تاج تیار ہو رہا تھا۔ آپ کی آمد سے اس کا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا۔ اسی کی جلن وہ نکال رہا ہے ‘‘۔ یہ شوشہ ابھی تازہ ہی تھا کہ اسی سفر میں اس نے ایک اور خطرناک فتنہ اٹھا دیا، اور فتنہ بھی ایسا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ کمال درجہ ضبط و تحمل اور حکمت و دانائی سے کام نہ لیتے و مدینے کی نو خیز مسلم سوسائٹی میں سخت خانہ جنگی بر پا ہو جاتی۔ یہ حضرت عائشہؓ پر تہمت کا فتنہ تھا۔ اس کا واقعہ خود ان ہی کی زبان سے سنیے جس سے پوری صورت حال سامنے آ جائے گی۔ بیچ بیچ میں جو امور تشریح طلب ہوں گے انہیں ہم دوسری معتبر روایات کی مدد سے قوسین میں بڑھاتے جائیں گے تاکہ جناب صدیقہؓ کے تسلسل بیان میں خلل نہ واقعہ وہ۔ فرماتی ہیں :

          ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قاعدہ تھا کہ جب آپ سفر پر جانے لگتے تو قرعہ ڈال کر فیصلہ فرماتے کہ آپ کی بیویوں میں سے کون آپ کے ساتھ جائے (اس قرعہ اندازی  کی نوعیت لاٹری کی سی نہ تھی۔ در اصل تمام بیویوں کے حقوق برابر کے تھے۔ ان میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ نہ تھی۔ اب اگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود کسی کو انتخاب کرتے تو دوسری بیویوں کی دل شکنی ہوتی ، اور ان میں باہم رشک و رقابت پیدا ہونے کے لیے بھی یہ ایک محرک بن جاتا۔ اس لیے آپ قرعہ اندازی سے اس کا فیصلہ فرماتے تھے۔ شریعت میں قرعہ اندازی ایسی ہی سورتوں کے لیے ہے جب کہ چند آدمیوں کا جائز حق بالکل برابر ہو، اور کسی کو کسی پر ترجیح دینے کے لیے کوئی معقول وجہ موجود نہ ہو، مگر حق کسی ایک ہی کو دیا جا سکتا ہو۔ )غزوہ نبی المصطلق کے موقع پر قرعہ میرے نام نکلا اور میں آپ کے ساتھ گئی۔ واپسی پر جب ہم مدینے کے قریب تھے ، ایک منزل پر رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑاؤ کیا ، اور بھی رات کا کچھ حصہ باقی تھا کہ کوچ کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ میں اٹھ کر رفع حاجت کے لیے گئی، اور جب پلٹنے لگی تو قیام گاہ کے قریب پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا ہے۔ میں اسے تلاش کرنے میں لگ گئی ، اور اتنے میں قافلہ روانہ ہو گیا۔ قاعدہ یہ تھا کہ میں کوچ کے وقت اپنے ہودے میں بیٹھ جاتی تھی اور چار آدمی اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ ہم عورتیں اس زمانے میں غذا کی کمی کے سبب سے بہت ہلکی پھلکی تھیں۔ میرا ہودہ اٹھاتے وقت لوگوں کو یہ محسوس ہی نہ ہوا کہ میں اس میں نہیں ہوں۔ وہ بے خبری میں خالی ہودہ اونٹ پر رکھ کر روانہ ہو گئے۔ میں جن ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ آخر اپنی چادر اوڑھ کر وہیں لیٹ گئی اور دل میں سوچ لیا  کہ آگے جا کر جب یہ لوگ مجھ نہ پائیں گے تو خود ہی ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے۔ اسی حالت میں مجھ کو نیند آ گئی۔ صبح کے وقت سفوان بن معلو سُلَمِی اس جگہ سے گزرے جہاں میں سو رہی تھی اور مجھے دیکھتے ہیں پہچان گئے ، کیونکہ پردے کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے  بارہا دیکھ چکے تھے۔ (یہ صاحب بدری صحابیوں میں سے تھے۔ ان کو صبح دیر تک سونے کے عادت [ابوداؤد اور دوسری کتب سنن میں یہ ذکر آتا ہے کہ ان کی بیوی نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کی شکایت کی تھی کہ یہ کبھی صبح کی نماز وقت پر نہیں پڑھتے۔ انہوں نے عذر پیش کیا کہ یا رسول اللہ یہ میرا خاندانی عیب ہے ، دیر تک سوتے رہنے کی اس کمزوری کو میں کسی طرح دور نہیں کر سکتا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا جب آنکھ کھلے نماز ادا کر لیا کرو۔ بعض محدثین نے ان کے قافلے سے پیچھے رہ جانے کی وجہ بیان کی ہے۔ مگر بعض دوسرے محدثین اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو اس خدمت پر مقرر کیا تھا کہ رات کے اندھیرے میں کوچ کرنے کی وجہ سے اگر کسی کی کوئی چیز چھوٹ گئی ہو تو صبح اسے تلاش کر کے لیتے آئیں ] تھی ، اس لیے یہ بھی لشکر گاہ میں کہیں پڑے سوتے رہ گئے تھے اور اب اٹھ کر مدینے جا رہے تھے ) مجھے دیکھ کر انہوں نے اونٹ روک لیا اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا’’اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی یہیں رہ گئیں ‘‘۔ اس آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اٹھ کر فوراً اپنے منہ پر چادر ڈال لی۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہ کی ، لا کر اپنا اونٹ میرے پاس بٹھا دیا اور الگ ہٹ کر کھڑے ہو گئے۔ میں اونٹ پر سوار ہو گئی اور وہ نکیل پکڑ کر روانہ ہو گئے۔ دوپہر کے قریب ہم نے لشکر کو جالیا جب کہ وہ ابھی ایک جگہ جا کر ٹھیرا ہی تھا اور لشکر والوں کو ابھی یہ پتہ نہ چلا تھا کہ میں پیچھے چھوٹ گئی ہوں۔ اس پر بہتان اٹھانے والوں نے بہتان اٹھا دیے اور ان میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی تھا۔ مگر میں اس سے بے خبر تھی کہ مجھ پر کیا باتیں بن رہی ہیں۔ (دوسری روایات میں آیا ہے کہ جس وقت صفوان کے اونٹ پر حضرت عائشہؓ لشکر گاہ میں پہنچیں اور معلوم ہوا کہ آپ اس طرح پیچھے چھوٹ  گئی تھیں اسی وقت عبداللہ بن ابی پکارا اٹھا کہ ’’ خدا کی قسم یہ بچ کر نہیں آئی ہے ، لو دیکھو، تمہارے نبی کی بیوی نے رات ایک اور شخص کے ساتھ گزاری اور اب وہ اسے علانیہ لیے چلا آ رہا ہے ‘‘)

’’مدینے پہنچ کر میں بیمار ہو گئی اور ایک مہینے کے قریب پلنگ پر پڑی رہی۔ شہر میں اس بہتان کی خبریں اُڑ رہی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کانوں تک بھی بات پہنچ چکی تھی، مگر مجھے کچھ پتہ نہ تھا۔ البتہ جو چیز مجھے کھٹکتی تھی وہ یہ کہ رسول اللہ علیہ و سلم کی وہ توجہ میری طرف نہ تھی جو بیماری کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ آپ گھر میں آتے تو بس گھر والوں سے یہ پوچھ کر رہ جاتے :کیف تیکم(کیسی ہیں یہ؟)۔ خود مجھ سے کوئی کلام نہ کرتے۔ اس سے مجھے شبہ ہوتا کہ کوئی بات ہے ضرور۔ آخر آپ سے اجازت لے کر میں اپنی ماں کے گھر چلی گئی تاکہ وہ میری تیمار داری اچھی طرح کر سکیں۔ ایک روز رات کے وقت حجت کے لیے میں مدینے کے باہر گئی۔ اس وقت تک ہمارے گھروں میں یہ بیت الخلا نہ تھے اور ہم لوگ جنگل ہی جایا کرتے تھے۔ میرے ساتھ مِسْطَح بن اُثاثہ کی ماں بھی تھیں جو میرے والد کی خالہ زاد بہن تھیں۔ (دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے خاندان کی کفالت حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنے ذمے لے رکھی تھی، مگر اس احسان کے باوجود مسطح بھی ان لوگوں میں شریک ہو گئے تھے جو حضرت عائشہؓ کے خلاف اس بہتان کو پھیلا رہے تھے )۔ راستے میں ان کو ٹھوکر لگی اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا غارت ہو مسطح۔ میں نے کہ اچھی ماں ہو جو بیٹے کو کوستی ہو، اور بیٹا بھی وہ جس نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا’’ بٹیا ، کیا تجھے اس کی باتوں کی کچھ خبر نہیں ؟ پھر انہوں نے سارا قصہ سنایا کہ افتا پرواز لوگ میرے متعلق کیا باتیں اڑا رہے ہیں۔ (منافقین کے سوا خود مسلمانوں میں سے جو لوگ اس فتنے میں شامل ہو گئے تھے ان میں مسطح، حسَّان بن ثابت مشہور شاعر السلام ، اور حنہہ بنت حجش ، حضرت زینبؓ کی بہن کا حصہ سب سے نمایاں تھا)۔ یہ داستان سن کر میرا خون خشک ہو گیا ، وہ حاجت بھی بھول گئی جس کے لیے آئی تھی، سیدھی گھر گئی اور رات بھر رو رو کر کاٹی‘‘۔ آگے چل کر حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ، ’’میرے پیچھے رسول اللہ لی اللہ علیہ و سلم نے علیؓ اور اسامہؓ بن زید کو بلایا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ اسامہ نے میرے حق میں کلمہ خیر کہا اور عرض کیا ’’ یا رسول اللہ، بھلائی کے سوا آپ کی بیوی میں کوئی چیز ہم نے نہیں پائی۔ یہ سب کچھ کذب اور باطل ہے جو اڑایا جا رہا ہے ‘‘۔ رہے علیؓ تو انہوں نے کہا ’’ یا رسول اللہ عورتوں کی کمی  نہیں ہے ، آپ اس کی جگہ دوسری بیوی کر سکتے ہیں ، اور حقیق کرنا چاہیں تو خدمت کار لونڈی کو بلا کر حالات دریافت فرمائیں ‘‘۔ چنانچہ خدمت گار کو بلایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے کہا’’ اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ستھ بھیجا ہے ، میں نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی جس پر حرف رکھا جا سکے۔ بس اتنا عیب ہے کہ میں آٹا گوندھ کر کسی کام کو جاتی ہوں اور کہہ جاتی ہوں کہ بیوی ذرا آٹے کا خیال رکھنا ، مگر وہ سو جاتی ہیں اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے ‘‘۔ اسی روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ میں فرمایا’’ مسلمانو ! کون ہے جو اس شخص کے حملوں سے میری عزت بچائے جس نے میرے گھر والوں پر الزامات لگا کر مجھے اذیت پہنچانے کی حد کر دی ہے۔ بخدا میں نے نہ تو اپنی بیوی ہی میں کوئی برائی دیکھی ہے ، اور نہ اس شخص میں جس کے متعلق تہمت لگائی جاتی ہے۔ وہ تو کبھی میری غیر موجودگی میں میرے گھر آیا بھی نہیں ‘‘۔ اس پراسید بن حُضیر (بعض روایات میں سعد بن مُعاذ)(غالباً اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے نام لینے کے بجائے سید اوس کے الفاظ استعمال فرمائے ہوں گے کسی راوی نے اس سے مراد حضرت معاذ کو سمجھ لیا، کیونکہ اپنی زندگی میں وہی قبیلہ اوس کے سردار تھے اور تاریخ میں وہی اس حیثیت سے زیادہ مشہور ہیں۔ حالانکہ در اصل اس واقعہ کے وقت ان کے چچا زاد بھائی اسید بن حضیر اوس کے سردار تھے ) نے اٹھ کر کہا ’’یا رسول اللہ ، اگر وہ ہمارے قبیلے کا آدمی ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں ، اور اگر ہمارے بھائی خزرجیوں میں سے ہے تو آپ حکم دیں ، ہم تعمیل کے لیے حاضر ہیں ‘‘۔ یہ سنتے ہی سعد بن عبادہ، رئیس خَزْرَج اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ’’جھوٹ کہتے ہو، تم ہر گز اسے نہیں مار سکتے۔ تم اس کی گردن کانے کا نام صرف اس لیے لے رہے ہو کہ وہ خزرج میں سے ہے۔ اگر وہ تمہارے قبیلے کا آدمی ہوتا تو تم کبھی یہ نہ کہتے کہ ہم اس کی گردن مار دیں (حضرت سعد بن عبادہ اگرچہ نہایت صالح اور مخلص مسلمانوں میں سے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے ، اور مدینے میں جن لوگوں کے ذریعہ سے اسلام پھیلا تھا ان میں ایک نمایاں شخص وہ بھی تھے ، لیکن ان سب خوبیوں کے باوجود ان کے اندر قومی حمیت [اور عرب میں اس وقت قوم کے معنی قبیلے کے تھے ] بہت زیادہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے عبداللہ بن ابی کی پشت پناہی کی، کیونکہ وہ ان کے قبیلے کا آدمی تھا۔ اسی وجہ سے فتح مکہ کے موقع پر ان کی زبان سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ’’ الیوم یوم الملحمہ، الیوم تستحل الحرمہ ’’آج کشت و خون کا دن ہے۔ آج یہاں کی حرمت حلال کی جائے گی‘‘ ، اور اس پر عتاب فرما کر حضورؐ نے ان سے لشکر کا جھنڈا واپس لے لیا۔ پھر آخر کار یہی وہ سبب تھا جس کی وجہ سے انہوں نے حضورؐ کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں یہ دعویٰ کیا کہ خلافت انصار کا حق ہے ، اور جب ان کی بات نہ چلی اور انصار و مہاجرین سب نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو تنہا وہی ایک تھے جنہوں نے بیعت سے انکار کر دیا اور مرتے دم تک قریشی خلیفہ کی خلافت تسلیم نہ کی [ملاحظہ ہو الاصابہ لابن حجر، اور الاستیعاب لا بن بعدالبر، ذکر سعد بن عبادہ۔ صفحہ10۔ 11]) گے ‘‘۔ اسید بن حضیر نے جواب میں کہا ’’ تم منافق ہو اسی لیے منافقوں کی حمایت کرتے ہو‘‘۔ اس پر مسجد نبوی میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ قریب تھا کہ اَوس اور خزرج مسجد ہی میں لڑ پڑتے ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو ٹھنڈا کیا اور پھر منبر سے اتر آئے ‘‘۔ حضرت عائشہؓ کے قصے کی باقی تفصیلات ہم اثنائے  تفسیر میں اس جگہ نقل کریں گے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی برأت نازل ہوئی ہے۔ یہاں جو کچھ بتانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی نے یہ شوشہ چھوڑ کر بیک وقت کئی شکار کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت ابو بکر صدیق کی عزت پر حملہ کیا۔ دوسری طرف اس نے اسلامی تحریک کے بلند ترین اخلاقی وقار کو گرانے کی کو شش کی۔ تیسری طرف اس نے یہ ایک ایسی چنگاری پھینکی تھی کہ اگر اسلام اپنے پیروؤں کی کایا نہ پلٹ چکا ہوتا تو مہاجرین اور انصار، اور خود انصار کے بھی دونوں قبیلے آپس میں لڑ مرتے۔

موضوع اور مباحث:

یہ تھے وہ حالات جن میں پہلے حملے کے موقع پر سورہ احزاب کے آخری 6 رکوع نازل ہوئے اور دوسرے حملے کے موقع پر یہ سورہ نور اتری۔ اس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر ان دونوں سورتوں کا ترتیب وار مطالعہ کیا جائے تو وہ حکمت اچھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے جو ان کے احکام میں مضمر ہے۔ منافقین مسلمانوں کو اس میدان میں شکست دینا چاہتے تھے جو ان کے تفوق کا اصل میدان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ، بجائے اس کے کہ وہاں کے اخلاقی حملوں پر ایک غضبناک تقریر فرماتا، یا مسلمانوں کو جوابی حملے کرنے پر اکساتا، تمام تر توجہ مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتے پر صرف فرمائی کہ تمہارے اخلاقی محاذ میں جہاں جہاں رخنے موجود ہیں ان کو بھرو اور اس محاذ کو اور زیادہ مضبوط کر لو۔ ابھی آپ دیکھ چکے ہیں کہ  نکاح زینبؓ کے موقع پر منافقین اور کفار نے کیا طوفان اٹھایا تھا۔ اب ذرا سورہ احزاب نکال کر پڑھیے ، وہاں آپ دیکھیں گے کہ ٹھیک اسی طوفان کا زمانہ تھا جب کہ معاشرتی اصلاح کے متعلق حسب ذیل ہدایات دی گئیں :          1 ۔ ازواج مطہرات کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھو، بناؤ سنگھار کر کے باہر نہ نکلو، اور غیر مردوں سے گفتگو کرنے کا اتفاق ہو تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ کوئی شخص بے جا توقعات قائم کرے (آیات 32۔ 33 )          2 ۔ حضور کے گھروں میں غیر مردوں کے بلا اجازت داخل ہو جانے کو روک دیا گیا، اور ہدایت کی گئی کہ ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ (آیت 53 )۔           3 ۔ غیر محرم مردوں اور محرم رشتہ داروں کے درمیان فرق قائم کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ازواج مہرات کے صرف محرم رشتہ دار ہی آزادی کے ساتھ آپ کے گھروں میں آ جا سکتے ہیں۔ (آیت 55)۔           4 ۔ مسلمانوں کو بتایاگیاکہ نبی کی بیویاں تمہاری مائیں ہیں اور ٹھیک اسی طرح ایک مسلمان کے لیے ابداً حرام ہیں جس طرح اس کی حقیقی ماں ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں ہر مسلمان اپنی نیت کو بالکل پاک رکھے۔ (آیت 53۔ 54 )۔           5 ۔ مسلمانوں کو متنبہ کر دیا گیا کہ نبیؐ کو اذیت دینا دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت اور رسوا کن عذاب کا موجب ہے ، اور اسی طرح کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا اور اس پر ناحق الزام لگانا بھی سخت گناہ ہے (آیت 57۔ 58 )          6 ۔ تمام مسلمان عورتوں کو حکم دے دیا گیا کہ جب باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو چادروں سے اپنے آپ کو اچھی طرح ڈھانک کر اور گھونگھٹ ڈال کر نکلا کریں (آیت 59)۔ پھر جب واقعہ اِفک سے مدینے کے معاشرے میں ایک ہلچل برپا ہوئی تو یہ سورہ نور اخلاق، معاشرت اور قانون کے ایسے احکام و ہدایات کے ساتھ نازل فرمائی گئی جن کا مقصد یہ تھ کہ اول تو مسلم معاشرے کو برائیوں کی پیدا وار اور ان کے پھیلاؤ سے محفوظ رکھا جائے ، اور اگر وہ پیدا ہو ہی جائیں تو پھر ان کا پورا پورا تدارک کیا جائے۔ ان احکام و ہدایات کو ہم اسی ترتیب کے ساتھ یہاں خلاصۃً درج کرتے ہیں جس کے ساتھ وہ اس سورے میں نازل ہوئے ہیں۔ تاکہ پڑھنے والے اندازہ کر سکیں کہ قرآن ٹھیک نفسیاتی موقع پر انسانی زندگی کی اصلاح و تعمیر کے لیے کس طرح قانونی، اخلاقی، اور معاشرتی تدبیر بیک وقت تجویز کرتا ہے :          1) ۔ زنا، جسے معاشرتی جرم پہلے ہی قرار دیا جا چکا تھا (سورہ نساء، آیات 15۔ 16 )، اب اس کو فوجداری جرم قرار دے کر اس کی سزا سو 100 کوڑے مقرر کر دی گئی۔           2 ) ۔ بد کار مردوں اور عورتوں سے معاشرتی مقاطعے کا حکم دیا گیا اور ان کے ساتھ رشتہ مناکحت جوڑنے سے اہل ایمان کو منع کر دیا گیا۔           3 ) ۔ جو شخص دوسرے پر زنا کا الزام لگائے اور پھر ثبوت میں چار گواہ نہ پیش کر سکے ،اس کے لیے 80 کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی۔           4) ۔ شوہر اگر بیوی پر تہمت لگائے تو اس کے لیے لِعان کا قاعدہ مقرر کیا گیا۔           5) ۔ حضرت عائشہ پر منافقین کے جھوٹے الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ ہدایت کی گئی کہ آنکھیں بند کر کے ہر شریف آدمی کے خلاف ہر قسم کی تہمتیں قبول نہ کر لیا کرو، اور نہ ان کو پھیلاتے پھرو۔ اس طرح کی افواہیں ا گر اڑ رہی ہوں تو انہیں دبانا اور ان کا سد باب کرنا چاہیے ، نہ یہ ایک منہ سے لے کر دوسرا منہ اسے آگے پھونکنا شروع کر دے۔ اسی سلسلے میں یہ بات ایک اصولی حقیقت کے طور پر سمجھائی گئی کہ طیب آدمی کا جوڑ طیب عورت سے ہی لگ سکتا ہے ، خبیث عورت کے اطوار سے اس کا مزاج چند روز بھی موافقت نہیں کر سکتا۔ اور ایسا ہی حال طیب عورت کا بھی ہوتا ہے کہ اس کی روح طیب مرد ہی سے موافقت کر سکتی ہے نہ کہ خبیث سے۔ اب اگر رسولؐ کو تم جانتے ہو کہ وہ ایک طیب ، بلکہ اطیب انسان ہیں تو کس طرح یہ بات تمہاری عقل میں سما گئی کہ ایک خبیث عورت ان کی محبوب ترین رفیقہ حیات بن سکتی تھی۔ جو عورت عملاً زنا  تک کر گزرے اس کے عام اطوار کب ایسے ہو سکتے ہیں کہ رسولؐ جیسا پاکیزہ انسان اس کے ساتھ یوں نباہ کرے۔ پس صرف یہ بات کہ ایک کمینہ آدمی نے ایک بیہودہ الزام کسی پر لگا دیا ہے ، اسے قابل قبول کیا معنی قابل توجہ اور ممکن الوقوع سمجھ لینے کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھو کہ الزام لگانے والا ہے کون اور الزام لگا کس پر رہا ہے۔           6) ۔ جو لوگ بے ہودہ خبریں اور بری افواہیں پھیلائیں اور مسلم معاشرے میں فحش اور فواحش کو رواج دینے کی کوشش کریں ، ان کے متعلق بتایا گیا کہ وہ ہمت افزائی کے نہیں بلکہ سزا کے مستحق ہیں۔           7) ۔ یہ قاعدہ کلیہ مقرر کیا گیا کہ مسلم معاشرے میں اجتماعی تعلقات کی بنیاد باہمی حسن ظن پر ہونی چاہیے۔ ہر شخص بے گناہ سمجھا جائے جب تک کہ اس کے گنہگار ہونے کا ثبوت نہ ملے۔ نہ یہکہ ہر شخص گناہ گار سمجھا جائے جب تک کہ اس کا بے گناہ ہونا ثابت نہ ہو جائے۔          8) ۔ لوگوں کو عام ہدایت کی گئی کہ ایک دوسرے کے گھروں میں بے تکلف نہ گھس جایا کریں بلکہ اجازت لے کر جائیں۔           9) عورتوں اور مردوں کو غضِّ بصر کا حکم دیا گیا اور ایک دوسرے کو گھورنے یا جھانک تاک کرنے سے منع کر دیا گیا۔           10) ۔ عورتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں میں سر اور سینہ ڈھانک کر رکھیں۔           11 ) عورتوں کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ اپنے محرم رشتہ داروں اور گھر کے خادموں کے سوا کسی کے سامنے بن سنور کر نہ آئیں۔           12) ۔ ان کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ باہر نکلیں تو نہ صرف یہ کہ اپنے بناؤ سنگھار کو چھپا کر نکلیں ، بلکہ بجنے والے زیور بھی پہن کر نہ نکلیں۔           13 ) معاشرے میں عورتوں اور مردوں کے بن بیاہے بیٹھے رہنے کا طریقہ ناپسندیدہ قرار دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ غیر شادی شدہ لوگوں کے نکاح کیے جائیں ، حتّیٰٰ کہ لونڈیوں ور غلاموں کو بھی بن بیاہا نہ رہنے دیا جائے۔ اس لیے کہ تجرد فحش آفریں بھی ہوتا ہے اور فحش پذیر بھی۔ مجرد لوگ اور کچھ نہیں تو بری خبریں سننے اور پھیلانے ہی میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔          14 ) ۔ لونڈیوں ور غلاموں کی آزادی کے لیے مکاتَبت کی راہ نکال دی گئی اور مالکوں کے علاوہ دوسروں کو بھی  حکم دیا گیا کہ مُکاتب غلاموں اور لونڈیوں کی مالی مدد کریں۔           15) ۔ لونڈیوں سے کسب کرانا ممنوع قرار دیا گیا۔ عرب میں یہ پیشہ لونڈیوں ہی سے کرانے کا رواج تھا،اس لیے اس کی ممانعت دراصل قحبہ گری کی قانونی بندش تھی۔           16) گھریلو معاشرت میں خانگی ملازموں اور نابالغ بچوں کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ وہ خلوت کے اوقات میں (یعنی صبح ، دوپہر اور رات کے وقت ) گھر کے کسی مرد یا عورت کے کمرے میں اچانک نہ گھس جایا کریں۔ اولاد تک کو اجازت لے کر آنے کی عادت ڈالی جائے۔          17) ۔ بوڑھی عورتوں کو یہ رعایت دی گئی کہ اگر وہ اپنے گھر میں سر سے اوڑھیر اتار کر رکھ دیں تو مضائقہ نہیں ، مگر حکم دیا گیا کہ تَبَرُّج (جن ٹھن کر اپنے آپ کو دکھانے ) سے بچیں۔ نیز انہیں نصیحت کی گئی ہ بڑھاپے میں بھی اگر وہ اوڑھنیاں اپنے اوپر ڈالے ہی رہیں تو بہتر ہے۔           18) اندھے ، لنگڑے ، لولے ، اور بیمار کو یہ رعایت دی گئی کہ وہ کھانے کی کوئی چیز کسی کے ہاں سے بلا اجازت کھا لے تو اس کا شمار چوری اور خیانت میں نہ ہو گا۔ اس پر کوئی گرفت نہ کی جائے۔           19) ۔ قریبی عزیزوں اور بے تکلف دوستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے ہاں بلا اجازت بھی کھا سکتے ہیں ، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنے گھر میں کھا سکتے ہیں۔ اس طرح معاشرے کے افراد کو ایک دوسرے سے قریب تر کر دیا گیا ور ان کے درمیان سے بیگانگی کے پردے ہٹا دیے گئے تاکہ آپس کی محبت بڑھے اور باہمی اخلاص کے رابطے ان رخنوں کو بند کر دیں جن سے کوئی فتنہ پرواز پھوٹ ڈال سکتا ہوَ ان ہدایات کے ساتھ ساتھ منافقین اور مومنین اور مومنین کی وہ کھُلی کھُلی علامتیں بیان کر دی گئیں جن سے ہر مسلمان یہ جان سکے کہ معاشرے میں مخلص اہل ایمان کون لوگ ہیں اور منافق کون۔ دوسری طرف مسلمانوں کے جماعتی نظم و ضبط کو اور کس دیا گیا اور اس کے لیے چند مزید ضابطے بنا دیے گئے تاکہ وہ طاقت اور زیادہ مضبوط ہو جائے جس سے غیظ کاا کر کفار و منافقین فساد انگیزیاں کر رہے تھے۔ اس تمام بحث میں نمایاں چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ پوری سورہ نور اس تلخی سے خالی ہے جو شرمناک اور بیہودہ حملوں کے جواب میں پیدا ہوا کرتی ہے۔ ایک طرف ان حالات کو دیکھیے جن میں یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ اور دوسری طرف سورت کے مضامین اور انداز کلام کو دیکھیے۔ اس قدر اشتعال انگیز صورت حال میں کیسے ٹھنڈے طریقے سے قانون سازی کی جا رہی ہے ، مصلحانہ احکام دیے جا رہے ہیں ، حکیمانہ ہدایات دی جا رہی ہیں ، اور تعلیم و نصیحت کا حق ادا کیا جا رہا ہے۔ اس سے صرف یہی سبق نہیں ملتا کہ ہم کو فتنوں کے مقابلے میں سخت سے سخت اشتعال کے مواقع پربھی کس طرح ٹنڈدے تدبّر اور عالی ظرفی اور حکمت سے کام لینا چاہیے ، بلکہ اس سے اس امر کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ یہ کلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہے ، کسی ایسی ہستی کا نازل کیا ہوا ہے جو بہت بلند مقام سے انسانی حالات اور معاملات کا مشاہدہ کر رہی ہے اور اپنی ذات میں ان حالات و معاملات سے غیر متاثر رہ کر خالص ہدایت و رہنمائی کا منصب اد کر رہی ہے۔ اگر یہ آنحضرتؐ کا اپنا کلام ہوتا تو آپ کی انتہائی بلند نظری کے باوجود اس میں اس فطری تلخی کا کچھ نہ کچھ اثر تو ضرور پایا جاتا جو خود اپنی عزت و ناموس پر کمینہ حملوں کو سن کر ایک شریف آدمی کے جذبات میں لازماً پیدا ہو جایا کرتی ہے۔