مکہ
سورہ An-Nazi'at

آیات

46

وحی کی جگہ

مکہ

نام :

پہلے ہی لفظ

  وَ النّٰزِعٰتِ  

سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول :

  حضرت عبداللہ بن عباس کا بیان ہےکہ  یہ سُورہ نبا ، ( عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ ) کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس کا مضمون بھی یہ بتا رہا ہے کہ یہ ابتدائی زمانے کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون:

اس کاموضوع قیامت اور زندگی بعد موت کا اثبات ہے اور ساتھ ساتھ اس بات پر تنبیہ بھی  کہ خدا کے رسول کو جُھٹلانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

آغازِ کلام میں موت کے وقت جان نکالنے والے، اور اللہ کے احکام کو بلا تا خیر بجا لانے والے، اور حکمِ الہٰی کے مطابق ساری کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتوں کی قسم کھا کر یہ یقین دلایا گیا ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور موت کے بعد دوسری زندگی ضرور پیش آکر رہےگی۔ کیونکہ جن فرشتوں کے ہاتھوں آج جان نکالی جاتی ہے، اُنہی کےہاتھوں دوبارہ جان ڈالی بھی جا سکتی ہے، اور جو فرشتے آج اللہ کے حکم کی تعمیل بلا تاخیر بجا لاتے اور کائنات کا انتظام چلاتے ہیں، وہی فرشتے کل اُسی خدا کے حکم سے کائنات کا یہ نظام درہم برہم بھی کر سکتے ہیں اور ایک دوسرا نظام قائم بھی کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد لوگوں کو یہ بتا یا گیا ہے کہ یہ کام ، جسے تم بالکل نا ممکن سمجھتے ہو  ، اللہ تعالیٰ کے لیے سرے سے  کوئی دشوار کام ہی نہیں ہے جس کے لیے کسی بڑی تیاری کی ضرورت ہو۔ بس ایک جھٹکا دنیا کے اِس نظام کو درہم بر ہم کر دے گا ، اور ایک دوسرا جھٹکا اِس کے لیے بالکل کافی ہو گا کہ دوسری دنیا میں یکایک تم اپنے آپ کو زندہ موجود پاؤ۔ اُس وقت وہی لوگ جو اس کا انکار کر رہے تھے، خوف سے کانپ رہے ہوں گے اور سہمی ہوئی نگاہوں سے وہ سب کچھ ہوتے دیکھ رہے ہونگے جس کو وہ اپنے نزدیک نا ممکن سمجھتے تھے۔

پھر حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصّہ مختصراً بیاب کر کے لوگوں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ رسول کو جھٹلانے اور اس کی ہدایت و رہنمائی کو رد کرنے اور چالبازیوں سے اس کو شکست دینے کی کوشش کا کیا انجام فرعون دیکھ چکا ہے۔ اُس سے عبرت حاصل کر کے اِس روش سے باز نہ آؤ گے تو وہی انجام تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔

اس کے بعد آیت ۲۷ سے ۲۳ تک آخرت اور حیات بعد الموت کے دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے منکرین سے پوچھا گیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کر دینا زیادہ سخت کام ہے یا اِس عظیم کائنات کو پیدا کر نا جو عالمِ بالا میں اپنے بے حدو حساب ستاروں اور سیاروں کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے؟ جس خدا کے لیے یہ کام مشکل نہ تھا اس کے لیے تمہاری بارِ د گر تخلیق آخر کیوں  مشکل ہوگی؟ صرف ایک فقرے میں امکانِ آخرت کی یہ مُیکت دلیل پیش کرنے کے بعد زمین  اور اُس سرو سامان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو زمین میں انسان  اور حیوان کی زیست کے لیے فراہم کیا گیا ہے اور جس کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پُورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ اشارہ کر کے اس سوال کو انسان کی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی جگہ سوچ کر رائے قائم کر دے کہ آیا اس حکیمانہ نظام میں انسان جیسی مخلوق کو اختیارات اور ذمہ داریاں سونپ کر اُس کا محاسبہ کرنا زیادہ متقضائے حکمت نظر آتا ہے، یا یہ کہ وہ زمین میں ہر طرح کے کام کر کے مر جائے اور خاک میں مل کر  ہمیشہ کے لیے فنا ہوجائے اور کبھی اُس سے حساب نہ لیا جائے کہ اِن اختیارات کو اس نے کیسے استعمال کیا اور اِن ذمہ داریوں کو  کس طرح ادا کیا؟ اس سوال  پر بحث کرنے کے بجائے آیات۳۴۔۴۱ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب آخرت بر پا ہوگی تو انسان کے  دائمی اور ابدی مستقبل کا فیصلہ اِس بنیاد پر ہوگا کہ کس نے دنیا میں حدِّ بندگی سے تجاوز کر کے اپنے خدا سے سر کشی کی  اور دنیا ہی کے فائدوں اور لذّتوں کو مقصود بنا لیا، اور کس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے سے احتراز کیا۔ یہ بات خود بخود اوپر کے سوال کا صحیح جوب ہر اُس شخص کو بتا دیتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی سےپاک ہو کر ایمانداری کے ساتھ اُس پر غور کرے۔ کیونکہ انسان کو دنیا میں اختیارات اور ذمّہ داریاں سونپنے کا بالکل عقلی، منطقی اور اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ اِسی بنیاد پر آخر کار اُس کا محاسبہ کیا جائے اور اسے جزا یا سزا دی جائے۔

          آخر میں کفّارِ مکہ کے اِس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ قیامت آئے گی کب؟ یہ سوال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار کرتے تھے۔ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اُس وقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ رسول کا کام صرف خبر دار کر دینا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور۔۔ اب جس کا جی چاہے اس کے آنے کا خوف کر کے  اپنا رویّہ درست کر لے ، اور جس کا جی چاہے بے خوف ہو کر شتر بے مہا ر کی  طرح چلتا رہے۔ جب وہ وقت  آجائے گا تو وہی لوگ جو اس دنیا کی زندگی  پر مرے مٹتے تھے اور اسی کو سب کچھ سمجھتے تھے، یہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں وہ صرف گھڑی بھر ٹھیر ے تھے۔ اُس وقت انہیں معلوم ہو گا کہ اس چند روزہ زندگی کی خاطر انہوں نے کس طرح ہمیشہ کے لیے اپنا مستقبل بر باد کر لیا۔