مکہ
سورہ Al-Kawthar

آیات

3

وحی کی جگہ

مکہ

نام:

    

اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ

کے لفظ الکوثر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول:

     ابن  مَرْدُوْیَہ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ، حضرت عبداللہ بن الزبیرؓ اور حضرت عائشہؓ صدیقہ سے نقل کیا ہے کہ یہ سورۃ مکّی ہے ، کَلْبی اور مُقاتِل بھی اسے مکّی کہتے ہیں، اور جمہور مفسّرین کا قول بھی یہی ہے۔ لیکن حضرت حسن بصری، عِکْرِمَہ ، مجاہداور قَتادہ اِس کو مدنی قرار دیتے ہیں، امام سیوطی نے اِتْقان میں اِسی قول کو صحیح ٹھیرایا ہے ، اور امام نَوَوِی نے شرح مسلم میں اِسی کو ترجیح دی ہے۔ وجہ اِس  کی وہ روایت ہے جو امام احمد، مسلم ، ابوداؤد، نَسائی، ابن ابی شَیْبَہ، ابن المُنذِر، ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ محدّثین نے حضرت اَنَس بن مالک سے نقل کی ہے کہ حضورؐ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپ کو کچھ اُونگھ  سی طاری ہوئی، پھر آپ نےمُسکراتے ہوئے سرِ مبارک اُٹھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض میں ہے کہ آپ نے خود لوگوں سے فرمایا اِس وقت میرے اوپر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر سورۂ کوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپ نے پوچھا جانتے ہو کہ کوثر کیا  ہے؟ لوگوں نے عرض کیا  کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے ربّ نے مجھے جنت میں عطا کی ہے (اس کی تفصیل آگے ”کوثر“ کی تشریح میں آرہی ہے)۔ اِس روایت  سے اِس سورہ کے مدنی ہونے پر اِس وجہ سے استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت اَنَس ؓ مکّہ میں نہیں بلکہ مدینے  میں تھے، اور اُن کا یہ کہنا کہ ہماری موجودگی میں یہ سورۃ نازل ہوئی، اس بات ی دلیل ہے کہ یہ مدنی ہے۔

مگر اول تو اِنہی حضرت انس سے امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، تِرْمِذی، اور ابن جریر نے یہ روایات نقل کی ہیں کہ جنت کی یہ نہر (کوثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں دکھائی جا چکی تھی، اور سب کو معلوم ہے کہ معراج ہجرت سے پہلے مکّہ میں ہوئی تھی۔ دوسرے، جب معراج میں آپ کو اللہ تعالیٰ کے اِس عطیہ کی نہ صرف خبر دی جا چکی تھی بلکہ اس کا مشاہدہ بھی کرا دیا گیا تھا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ حضور کو اُس خوشخبری دینے کے لیے مدینہ طیّبہ میں سورۂ کوثر نازل کی جاتی۔ تیسرے، اگر صحابہ کے ایک مجمع میں حضور ؐ نے خود سُورۂ کوثر کے نزول کی وہ خبر دی ہوتی جو حضرت اَنَس ؓ کی مذکورۂ بالا روایت میں  بیان ہوئی ہے اور اُس کا مطلب یہ ہوتا کہ پہلی مرتبہ یہ سورۃ اِسی وقت نازل ہوئی ہے ، تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت عائشہ ، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن زبیر جیسے باخبر صحابہ اِس سورۃ کو مکّی قرار دیتے اور جمہورِ مفسّرین اس کے مکّی ہونے کے قائی ہو جاتے؟ اس معاملہ پر غور کیا جائے تو حضرت انس کی روایت میں یہ خلاصاف محسوس ہوتا ہے کہ اپس میں یہ تفصیل بیان نہیں ہوئی ہے کہ جس مجلس میں حضور ؐ نے بات ارشاد فرمائی تھی اُس میں پہلے سے کیا گفتگو چل رہی تھی۔ ممکن ہے کہ اُس وقت حضور ؐ کسی مسئلے پر کچھ ارشاد فرما رہے ہوں ، اُس کے دوران میں وحی کے ذریعے سے آپ کو مطلع کیا گیا ہو کہ اِس مسئلے پر سورۂ کوثر سے روشنی پڑتی ہے ، اور آپ نے اِسی بات کا ذکر یوں فرمایا ہو کہ مجھ پر یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔ اِس قسم کے واقعات متعدد مواقع پر پیش آئے ہیں جن کی بنا  مفسّرین نے بعض آیات کے متعلق کہا ہے کہ وہ دو مرتبہ نازل ہوئی ہیں اس دوسرے نزول کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ آیت تو پہلے نازل  ہو چکی تھی، مگر دوسری بار کسی موقع پر حضورؐ کو بذریعۂ وحی اُسی آیت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ ایسی روایات میں کسی آیت کے نزول کا ذکر یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا کہ وہ مکّی ہے یا مدنی، اور اس کا اصل نزول فی الواقع کس زمانے میں ہوا تھا۔

تاریخی پَسْ منظر :

 

اِس سے پہلے سورۂ ضُحٰی اور سورۂ الم نشرح میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ نبوّت کے ابتدائی دور میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید ترین مشکلات سے گزر رہے تھے ، پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی ، مزاحمتوں کے پہاڑ راستے میں حائل تھے، مخالفت کا طوفان برپا تھا، اور حضورؐ اور آپ کے چند مٹھی بھر ساتھیوں کو دور دور تک کہیں کامیابی کے آثار نظر نہیں آتے تھے، اُس وقت آپ کو تسلی دینے اور آپ کی ہمت بندھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات نازل فرمائیں۔ سُورۂ ضحٰی میں فرمایا   وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرُ لَّکَ مِنَ الْاُوْلیٰo  وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیo

”اور یقینًا تمہارے لیے بعد کا دور (یعنی ہر بعد کا دور) پہلے دور سے بہتر ہے اور عنقریب تمہارا رب تمہیں وہ کچھ دے گا جس سے تم خوش ہو جاؤ گے“۔ اور الم نشرح میں فرمایا کہ

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ

”اور ہم نے تمہارا آوازہ بلند کردیا“۔ یعنی دشمن تمہیں ملک بھر میں بدنام کرتے پھر رہے ہیں مگر ہم نے اُن کے علیٰ الرَّغْم تمہارا نام روشن کر نے اور تمہیں ناموَری عطا کرنے کا سامان کر دیا ہے۔ اور

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o اِنَّ مَعَ  الْعُسْرِ یُسْرًا o

 ”پس حقیقت  یہ ہے کہ تنگی کے  ساتھ فراخی بھی ہے، یقینًا تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے“۔ یعنی اِس وقت حالات کی سختیوں سے پریشان نہ ہو ، عنقریب یہ مصائب کا دور ختم ہونے والا ہے اور کامیابیوں کا دور آنے ہی والا ہے۔

ایسے ہی حالات تھے جن میں سورۂ کوثر نازل  کر کے اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو تسلی بھی دی اور آپ کے مخالفین کے تباہ و برباد ہونے کی پیشنگوئی بھی فرمائی۔ قریش کے کفّار کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ساری قوم سے کٹ گئے ہیں اور اُن کی حیثیت ایک بے کس اور بے یار و مددگار انسان کی سی ہو گئی ہے۔ عِکْرِمَہ کی روایت ہے کہ جب حضورؐ نبی بنائے گئے اور آپ نے قریش کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو قریش کے لوگ کہنے لگے بَتِر محمدٌ مِنّا (ابن جریر) یعنی محمدؐ اپنی قوم سے کٹ کر ایسے ہو گئے ہیں  جیسے کوئی درخت اپنی جڑ سے کٹ گیا ہو اور متوقَّع یہی ہو  کہ کچھ مدت بعد  وہ سُوکھ کر پیوند خاک ہو جائے گا۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مکّہ کے سردار عاص بن وائل سَہْمِی کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا  تو وہ کہتا:”اجی چھوڑو اُنہیں، وہ تو ایک ابتر (جڑکٹے) آدمی ہیں، ان  کو کوئی اولادِ نرینہ نہیں، مر جائیں گے تو کوئی ان کا نام لیوا نہ ہو گا“۔ شِمر بن عطیہ کہ بیان ہے کہ عُقْبَہ بن ابی مُعَیط بھی ایسی ہی باتیں حضورؐ کے متعلق کہا کرتا تھا (ابن جریر)۔ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ کعب بن اشرف(مدینہ کا یہودی سردار) مکہ آیا تو قریش کے سرداروں نے اس سے کہا الا ترٰی الیٰ ھٰذا الصبّی المنبتر من قومہ یزعم انہ خیر منّا و نحن اھل الحجیج و اھل السدانۃ واھل السقایۃ۔

”بھلا دیکھو تو سہی اِس لڑکے کو جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ہم سے بہتر ہے، حالانکہ ہم حج اور سدانت اور سقایت کے منتظم ہیں“ (بَزّار)۔ اسی واقعہ کے متعلق عِکْرِمَہ کی روایت یہ ہے کہ قریش والوں نے حضورؐ کے لیے

الصُّنْبورُ الْمُنْبَتِر من قومہ 

کے الفاظ استعمال کیے تھے، یعنی ”کمزور ، بے یار و مددگار اور بے اولاد آدمی جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے“(ابن جریر)۔ ابن سعد اور ابن عَساکِر کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے صاحبزادے قاسمؓ تھے، ان سے چھوٹی حضرت زینب ؓ تھیں، ان سے چھوٹے حضرت عبدؓاللہ تھے، پھر علی الترتیب تین صاحبزادیاں  اُمِّ کُلثوم ؓ، فاطمہؓ اور رُقَیَّہ ؓ تھیں۔ ان میں سے پہلے حضرت قاسم کا انتقال ہوا، پھر حضرت عبداللہ نے بھی وفات پائی۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا”اُن کی نسل ختم ہو گئی۔ اب وہ ابتر ہیں“ (یعنی ان کی جڑ کٹ گئی)۔ بعض روایات میں یہ اضافہ ہے کہ عاص نے کہا

 ان محمدًا بتر لا ابن لہ یقومُ مقامہ بعد ہ فا ذا مات انقطع ذکرہ و استر حتم منہ

۔” محمدؐ ابتر ہیں، ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے جو ان کا قائم مقام بنے ، جب وہ مر جائیں گے تو ان کا نام دنیا  سے مٹ جائے گا اور ان سے تمہارا پیچھا چھوٹ جائے گا“۔ عبد بن حُمَید نے ابن عباسؓ  کی جو روایت نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کے صاحبزادے عبد اللہ کی وفات پر ابو جہل نے بھی ایسی ہی باتیں کہی تھیں۔ شَمِر بن عطیہ سے  ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضورؐ کے اِس غم پر خوشی مناتے ہوئے ایسے ہی کمینہ پن کا مظاہرہ عُقْبہ بن ابی مُعَیط نے کیا تھا۔ عطاء کہتے ہیں کہ جب حضورؐ کے دوسرے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو حضورؐ کا اپنا چچا ابولہب (جس کا گھر بالکل حضورؐ کے گھر سے متصل تھا) دوڑا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور اُن کو یہ ”خوشخبری“ دی کہ

بَتِر محمّدٌ اللّیْلۃ۔

” آج رات محمدؐ لا ولد ہوگئے  یا ان کی جڑ کٹ گئی“۔

یہ تھے وہ انتہائی دل شکن حالات جن میں سورۂ کوثر حضورؐ پر نازل کی گئی۔ قریش اس لیے آپ سے بگڑے  تھے کہ آپ صرف اللہ  ہی کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور ان کے شرک کو آپ نے عَلانیہ رد کر دیا تھا۔ اِسی وجہ سے پوری قوم میں جو مرتبہ و مقام آپ کو نبوت سے پہلے حاصل تھا وہ آپ سے چھین  لیا گیا تھا اور آپ گویا برادری سے کاٹ پھینکے گئے تھے۔ آپ کے چند مٹھی بھر ساتھی سب بے یار و مددگار تھے اور مارے  کھدیڑے جا رہے تھے۔ اس پر مزید آپ پر ایک کے بعد ایک بیٹے کی وفات سے غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر عزیزوں، رشتہ داروں، قبیلے اور برادری کے لوگوں اور ہمسایوں کی طرف سے ہمدردی و تعزیت کے بجائے ہو خوشیاں منائی  جا رہی تھیں ، اور وہ باتیں بنائی جا رہی تھیں جو ایک ایسے شریف انسان کے لیے دل توڑ دینے والی تھیں جس نے اپنے تو اپنے، غیروں تک سے ہمیشہ انتہائی نیک سلوک کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اِس مختصر ترین سورۃ کے ایک فقرے میں وہ خوشخبری دی جس سے بڑی خوش خبری دنیا کے کسی انسان کو کبھی نہیں دی گئی۔ اور ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والوں ہی کی جڑ کٹ جائے گی۔