مکہ
سورہ Al-Kafirun

آیات

6

وحی کی جگہ

مکہ

نام :

 

 پہلی ہی آیت قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ

کے لفظ الکافرون کو اِس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :

  

حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حسن بصری اور عِکْرِمَہ کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مکّی ہے، حضرت عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں مدّنی ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس اور قَتَادہ سے دو قول منقول ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکّی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک یہ مکّی سورۃ ہے، اور اس کا مضمون خود اس کے مکّی ہونے پر دلالت کر رہاہے۔

تاریخی پَسْ منظر :

 

مکّہ معظمہ میں ایک دور ایسا گزرا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام کے خلاف قریش کے مشرک معاشرے میں مخالفت کا طوفان تو برپا ہو چکا تھا ، لیکن ابھی قریش کے سردار اِس بات سے بالکل مایوس نہیں ہوئے تھے کہ حضورؐ کو کسی نہ کسی طرح مصالحت پر آمادہ کیا جا سکے گا ۔ اس لیے وقتاً فوقتاً وہ آپ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں لے  لے کر آتے رہتے تھے تا کہ آپ اُن میں سے کسی کو مان لیں اور وہ نزع ختم ہو جائے جو آپ کے اور اُن کے درمیان رُونما ہو چکی تھی۔ اس سلسلے میں متعدد روایات احادیث میں منقول ہوئی ہیں:حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم آپ کو اتنا مال دے دیتے ہیں کہ آپ مکّہ کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن جائیں، آپ جس عورت کو پسند کریں اس سے آپ کی شادی کیے دیتے ہیں، ہم آپ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں، آپ بس ہماری یہ بات مان لیں کہ ہمارے معبودوں کی بُرائی کرنے سے باز رہیں۔ اگر یہ آپ کو منظور نہیں، تو ہم ایک اور تجویز  آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جس میں آپ کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔ حضور ؐ نے  پوچھا  وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ایک سال آپ ہمارے معبود و ں لات اور عُزّیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود  کی عبادت کریں۔ حضورؐ نے فرمایا اچھا،ٹھہرو، میں دیکھتا ہوں کہ میرے ربّ کی طرف سے کیا حکم آتا ہے ۔ ۱؎ اس پر وحی نازل ہوئی قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ  قُلْ اَفَغَیْرَ اللہِ تَاْ مُرُوْنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّھَا الْجٰعِلُوْنَ o(الزُّمر، آیت۶۴)۔  ”اِن سے کہو، اے نادانو، کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کروں؟“ (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم۔ طَبَرانی)۔ ابن عباسؓ کی ایک اور روایت یہ  ہے کہ قریش کے لوگوں نے حضورؐ سے کہا ” اے محمدؐ ، اگر تم ہمارے معبود بتوں کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں گے۔“ اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی(عبد بن حُمَید)۔

سعید بن مینا ء (ابو البَخْتَرِی کے آزاد  کردہ غلام ، کی روایت ہے کہ ولید بن مُغِیْرہ ، عاص بن وائل، اَسْوَد بن المُطَّلِب اور اُمَیَّہ بن خَلَف رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم سے ملے اور آپ سے کہا ”اے محمدؐ، آؤ ہم تمہارے معبود کی عبادت کریتے ہیں اور تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو اورہم اپنے سارے کاموں میں تمہیں شریک کے لیتے ہیں۔ اگر وہ چیز جو تم لے کر آئے ہو اُس سے بہتر ہوئی جو ہمارے پاس ہے تو ہم تمہارے ساتھ اُس میں شریک ہوں گے اور اپنا حصہ اُس سے پالیں گے۔ اور اگر  وہ چیز جو ہمارے  پاس ہے اُس سے بہتر ہوئی  جو تم لائے ہو تو تم ہمارے ساتھ  اس میں شریک ہو گے اور اس سے اپنا حصّہ  پا لو گے۔ “ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی کہ  

قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ

۔۔۔۔۔۔۔۔(ابن جریر و ابن ابی حاتم ابن ہشام نے بھی سیرت میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے)

وَہْب بن مُنَبِّہ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر آپ پسند کریں تو ایک سال ہم آپ کے دین میں داخل ہو جائیں گے اور ایک سال آپ ہمارے دین میں داخل ہو جایا کریں(عبد بن حُمَید ابن ابی حاتم)۔

اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف مواقع پر کفّارِ قریش نے حضورؐ کے سامنے اِس قسم کی تجویزیں پیش کی تھیں اور اس بات کی ضرور ت تھی کہ ایک دفعہ دو ٹوک جواب دے  کر اُن کی اِس امید کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کے معاملہ میں کچھ دو اور کچھ لو کے طریقے پر اُن سے کوئی مصالحت کر لیں گے۔

موضوع اور مضمون:

 

اِس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ مذہبی رواداری کی تلقین کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ آج کل کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں ، بلکہ اِس لیے نازل ہوئی تھی کہ کفّار  کے دین اور اُن کی پوجا پاٹ اور اُن کے معبودوں سے قطعی براءت ، بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان کر دیا جائے اور اُنہیں بتا دیا جائے کہ دینِ کفر اور دینِ اسلام ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں، اُن کے باہم مل جانے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات اگرچہ ابتداءً قریش کے کفار کو مُخاطَب کر کے اُن کی تجاویز مصالحت کے جواب میں کہی گئی تھی، لیکن یہ اُنہی تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے قرآن میں درج کر کے تمام مسلمانوں کو قیامت تک کے لیے یہ تعلیم دے دی گئی ہے کہ دینِ کفر جہاں جس شکل میں بھی ہے اُن کو اس سے قول اور عمل میں براءت کا اظہار چاہیے اور بلا رو رعایت کہہ دینا چاہیے کہ دین کے معاملہ میں وہ کافروں سے کسی قسم کی مداہنت یا مصالحت نہیں کر سکتے۔ اسی لیے یہ سورۃ اُس  وقت بھی پڑھی جاتی رہی جب وہ لوگ مر کھپ گئے تھے جن کی باتوں کے جواب میں اِسے نازل  فرمایا گیا تھا ، اور وہ لوگ بھی مسلمان ہونے  کے بعد اسے پڑھتے رہے جو اِس کے نزول کے زمانے میں کافر و مشرک تھے، اور اُن کے گزر جانے کے صدیوں بعد آج بھی مسلمان اس کو پڑھتے ہیں کیونکہ کفر اور کافری سے بیزاری و لاتعلقی  ایمان کا دائمی تقاضا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نگاہ میں اِس سورہ کی کیا اہمیت تھی ، اس کا اندازہ ذیل کی چند احادیث سے کیا جا سکتا ہے:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے بار ہا حضورؐ کو فجر کی نماز سے پہلے اور مغرب کی نماز کے بعد کی دورکعتوں میں قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ

َ اور 

قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَد

پڑھتے دیکھا ہے۔(اِس مضمون کی متعدد روایات کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ امام احمد، تِرْمذی، نَسائی، ابن ماجہ، ابن حِبّان اور ابن مَردویَہ نے ابن عمرؓ سے نقل کی ہیں)۔

حضرت خَبّاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر  پر لیٹو تو قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ

پڑھ لیا کرو، اور حضورؐ کا خود بھی یہ طریقہ تھا کہ جب آپؐ سونے کے لیے لیٹتے تو یہ سورۃ پڑھ لیا کرتے تھے(بزّار، طَبَرانی، ابن مردویہ)

ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا ”میں تمہیں بتاؤں وہ کلمہ جو تم کو شرک سے محفوظ رکھنے والا ہے؟ وہ یہ ہے کہ سوتے وقت قُلْ قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ

پڑھ لیا کرو (ابو یَعلیٰ، طَبَرانی)۔

حضرت اَنَسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جَبَل سے فرمایا سوتے وقت قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ

پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے(بَیْہَقِی فی الشعب)۔

فَرْدَہ بن نَوفَل اور عبد الرحمان بن نَوفَل ، دونوں کا بیان ہے کہ ان کے والد نوفل بن معاویہؓ الاَشْجَعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیئے  جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپ نے فرمایا قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ آخر تک پڑھ کر سو جایا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے(مُسند احمد، ابو داؤد، تِرمِذی، نَسائی، ابن ابی شَیبہ، حاکم ، ابن مَرْدُوْیَہ، بِیْہَقِی فی الشعب) ۔ ایسی ہی درخواست حضرت زید بن ؓ حارثہ کے بھائی حضرت جَبَلہ بنؓ حارثہ نے حضور سے کی تھی اور ان کو بھی آپ نے یہی جواب دیا تھا ( مُسند احمد، طَبَرانی)۔

۱؎

    اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی درجہ میں بھی اس تجویز کو قابلِ قبول کیا معنی قابلِ غور بھی سمجھتے تھے، اور آپؐ نے معاذ اللہ کفار کو یہ جواب اس امید پر دیا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی منظوری  آجائے۔ بلکہ دراصل یہ بات بالکل ایسی ہی تھی  جیسے کسی ماتحت افسر کے سامنے کوئی بے جا مطالبہ پیش کیا جائے اور وہ جانتا ہو کہ اس کی حکومت کے لیے یہ مطالبہ قابلِ قبول نہیں ہے ، مگر وہ خود صاف انکار کر دینے کے بجائے مطالبہ کرنے والوں سے کہے کہ میں آپ کی درخواست اوپر بھیجے دیتا ہوں ، جو کچھ وہاں سے جواب آئے گا  وہ آپ کو بتادوں گا۔ اس سے فرق یہ واقع ہوتا ہے کہ ماتحت افسر اگر خود ہی انکار کر دے تو لوگوں کا اصرار جاری رہتا ہے،  لیکن اگر وہ بتائے کہ اوپر سے حکومت  کا جواب ہی تمہارے مطالبہ کے خلاف آیا ہے تو لوگ مایوس ہو جاتے ہیں۔

واپس