مکہ
سورہ Al-Furqan

آیات

77

وحی کی جگہ

مکہ

نام :

پہلی ہی آیت

تَبَاَرَکَ الَّذِیْ نَزَّ لَ الْفُرْقَانَ

سے ماخوذ ہے ۔ یہ بھی قرآن کی اکثر سورتوں کے ناموں کی طرح علامت کے طور پر ہے نہ کہ عنوان مضمون کے طور پر ۔ تاہم مضمون سورہ کے ساتھ یہ نام ایک قریبی مناسبت رکھتا ہے جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا۔

زمانۂ نزول :

 

انداز بیان اور مضامین پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانہ نزول بھی وہی ہے جو سورہ مومنون وغیرہ کا ہے ، یعنی زمانہ قیام مکہ کا دور متوسط۔ ابن جریر اور امام رازی نے ضحاک بن مزاجِ اور مقاتل بن سلیمان کی یہ روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت سورہ نساء سے 8 سال پہلے اتری تھی۔ اس حساب سے بھی اس کا زمانہ نزول وہی دور متوسط قرار پاتا ہے ۔ (ابن جریر، جلد 19، صفحہ 28 ۔30 ۔ تفسیر کبیر ، جلد 6 ، صفحہ 358 ) ۔

موضوع و مباحث :

اس میں ان شبہات و اعتراضات پر کلام کیا گیا ہے جو قرآن ، اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت ، اور آپ کی پیش کر دہ تعلیم پر کفار مکہ کی طرف سے پیش کیے جاتے تھے ۔ ان میں سے ایک ایک کا جچا تلا جواب دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ دعوت حق سے منہ موڑنے کے برے نتائج بھی صاف صاف بتائے گئے ہیں ۔ آخر میں سورہ مومنون کی طرح اہل ایمان کی اخلاقی خوبیوں کا ایک نقشہ کھینچ کر عوام الناس کے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ اس کسوٹی پر کس کر دیکھ لو ، کون کھوٹا ہے اور کون کھرا۔ ایک طرف اس سیرت و کردار کے لوگ ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم سے اب تک تیار ہوئے ہیں اور آئندہ تیار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ دوسری طرف وہ نمونہ اخلاق ہے جو عم اہل عرب میں پایا جاتا ہے اور جسے بر قرار رکھنے کے لیے جاہلیت کے علمبردار ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ اب خود فیصلہ کرو کہ ان دونوں نمونوں میں سے کے پسند کرتے ہو؟ یہ ایک غیر مفوکظ سوال تھا جو عرب کے ہر باشندے کے سامنے رکھ دیا گیا، اور چند سال کے اندر ایک چھوٹی سی اقلیت کو چھوڑ کر ساری قوم نے اس کا جو جواب دیا وہ جریدہ روز گار پر ثبت ہو چکا ہے ۔